ای سپورٹس کہا جاتا ہےکمپیوٹرز، لیپ ٹاپس اور موبائیل پر کھیلنے والی گیمز کو۔ یہ گیمز مختلف طرح کے ہوتے ہیں۔ اِن گیمز کو انٹرنیٹ کے ساتھ اور انٹرنیٹ کے بغیربھی کھیلا جا سکتا ہے۔ دنیا میں ہر گزرتے دن کے ساتھ ای سپورٹس کھیلنے والوں کی تعداد میں بے تحاشااضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ایسا کیوں ہے؟ آئیے جانتے ہیں۔
| ای سپورٹس کا آغاز کب سے ہوا؟ |
| گیمز کتنی طرح کی ہیں؟ |
| لوگوں کی اتنی دلچسپی کی وجہ کیا ہے؟ |
| ای سپورٹس کے میچز کی انعامی رقم اِتنی زیادہ کیوں ہے؟(یہ سوال سب سے زیادہ تنگ کرتا ہے۔۔) |
| ای سپورٹس کا مستقبل کیا ہے؟ |
ای سپورٹس کا آغاز کب سے ہوا؟
ای سپورٹس کی تاریخ لگ بھگ اتنی ہی پُرانی ہے جتنا کمپیوٹر خود پرانا ہے۔ یہ بات ہے کوئی 1950 کی دہائی کی، جب کمپیوٹرز کی کارکردگی کو جانچنے اور بہتر بنانے کے لئے وڈیو گیمز بنانا شروع کی گئیں۔ جب اِس دہائی کا اختتام ہوا تو کمپیوٹرز زیادہ چھوٹے اور تیز رفتار ہو چکے تھے تب 1962 میں ‘سپیس وار’ وڈیو گیم ریسرچ لیب سے باہر عام آدمی کے کھیلنے کے لئے میسر آئی۔ بس اُس کے بعد وڈیو گیمز کی دنیا میں انقلاب آ گیا۔ 1970 کی دہائی نے آرکیڈ گیمز کا طوفان دیکھا، جب ‘کمپیوٹر سپیس’ نام کی پہلی آرکیڈ گیم مارکیٹ میں آئی پھر 1972 میں ‘پونگ’ دوسری آرکیڈ گیم بنی جس نے دنیا کو نا قابل یقین نئے تجربے سے دوچار کیا۔
اُس وقت یہ ایسی عیاشی تھی جو صرف انتہائی دولت مند افراد کو ہی مہیا تھی اور آج آپ نے بھی دیکھا ہو گا کہ گلی محلے کے بازاروں میں ایسی دکانیں ضرور ہوتی ہیں جہاں پانچ سات آرکیڈز رکھے ہوتے ہیں اور بارہ سے اٹھارہ سال کی عمر کے لڑکے گیم کھیل رہے ہوتے ہیں۔ (ویسے آپ کا تو پتہ نہیں لیکن میں نے ضرور دیکھا ہے۔۔) پھر گیم کھیلنے کی باقاعدہ ڈیوائسز نکل آئیں، جیسے وڈیو گیم کنسول جِسے آرام سے گھر میں رکھ کر کنٹرولر کے ساتھ کھیلا جاتا ہے۔
سونی کا پلے اسٹیشن، مائیکروسوفٹ کا ایکس باکس اور نین ٹینڈو کا سوئچ کنسول زیادہ نمایاں ہیں اور پھر آگئے موبائیل فون۔ پہلے صرف کمپیوٹر اور کنسول پر کھیلی جانے والی گیمز کو سنجیدگی سے لیا جاتا تھا اور اب موبائیل کے بھی مقابلے منعقد ہوتے ہیں جن کی انعامی رقم لاکھوں ڈالرز ہوتی ہے۔
مزید پڑھیے: لاکھوں ڈالرز کی مالیت کے تین ای سپورٹس ورلڈ کپ
گیمز کتنی طرح کی ہیں؟
جب وڈیو گیمز بنانا شروع کی گئیں تو وہ ایکشن اور حکمتِ عملی پر مبنی تھیں۔ پھر وقت کے ساتھ ساتھ اِن میں کئی اور طرح کی گیمز شامل ہوتی گئیں۔ سب سے مشہور اور نمایاں اقسام یہ ہیں؛
ایکشن گیمز
ایکشن گیمز میں بڑی ورائٹی ہے۔ اِن میں سب سے زیادہ کھیلی جانے والی اقسام ایف پی ایس اور موبا ہیں۔
ایف پی ایس کیا ہے؟
ایف پی ایس یعنی فرسٹ پرسن شوٹنگ گیم ہے، یہ گیم اکیلے کھلاڑی کا کھیل ہے لیکن اسے ملٹی پلیئر موڈ میں بھی کھیل سکتے ہیں۔ اس میں کھلاڑی اپنے کردار کو پہلی نظر کے رخ سے دیکھتے ہیں۔ تیزی کے ساتھ حرکت کرنا، ٹھیک ٹھیک نشانہ لگانا اور بھرپور مہارت سے گولی چلانا اِس کھیل کا حصہ ہے جیسے ویلورینٹ میں ہوتا ہے۔
موبا کیا ہے؟
موبا، ملٹی پلیئر آن لائن بیٹل ایرینا کو کہتے ہیں۔ اس میں کھلاڑی اکٹھے مل کر چلتے ہیں۔ یہ صبر، ذہانت اور حکمتِ عملی کا کھیل ہے۔ کھلاڑی ایک ہیرو یا چیمپین کو کنٹرول کرتے ہیں۔ نقشے کو سمجھنے کی صلاحیت، بروقت فیصلہ کرنے کی قوت اور ساتھ مل کر چلنے کی قابلیت اس کھیل کے لئے لازمی ہیں۔ پب جی اورلیگ آف لیجنڈز اس کی مثالیں ہیں ۔
فائٹنگ گیمز
فائٹنگ گیمز میں دو کھلاڑی آمنے سامنے کھڑے ہو کر براہ راست لڑائی کرتے ہیں۔ کھلاڑی مختلف مووز اور اٹیکس کے ذریعے اپنے کردار کو کنٹرول کرتے ہیں۔ یہ کھیل راؤنڈز میں کھیلا جاتا ہے۔ جو مخالف کردار کو چاروں شانے چت کر دے وہ مقابلہ جیت جاتا ہےاور فاتح کہلاتا ہے۔
اسپورٹس گیمز
اچھا اِس میں ایسا ہوتا ہے کہ حقیقی زندگی کے کھیلوں کو وڈیو گیم کی شکل دے دی جاتی ہے۔ جیسے فٹ بال، کرکٹ، باسکٹ بال وغیرہ۔ اِن گیمز میں فیفا جو فٹ بال پر مبنی ہے سب سے زیادہ مشہور ہے۔ اِس میں اصل کھلاڑیوں اور ٹورنا منٹس کو آپ کھیل سکتے ہیں۔ بارسلونا، ریال میڈرڈ جیسی مشہور ٹیمیں اور لیونل میسی اور رونالڈو جیسے کھلاڑی آپ کے مد مقابل کھیلتے ہیں۔ یہ حقیقی تجربے کی طرح کا لطف دیتا ہے اسی لئے یہ قسم بھی وڈیو گیمز میں کافی مقبول ہے۔
بورڈ گیمز
بورڈ یا تختے پر کھیلے جانے والے گیمز بورڈ گیمز کہلاتے ہیں جیسے شطرنج اور لڈو وغیرہ۔ شطرنج کے باقاعدہ ٹورنامنٹس منعقد ہوتے ہیں ،ای سپورٹس کے عالمی مقابلوں میں اس گیم کے فاتح نے ڈھائی لاکھ ڈالرز کی رقم جیتی تھی۔ جی ہاں اب یہ بھی وڈیو شکل میں میسر ہیں اور بہت شوق سے کھیلے جاتے ہیں اور اسی طرح لُڈو جو لڈو سٹار اور لڈو کنگ کی ایپس ہیں، اِس کھیل کو دنیا بھر میں مقبول بناتی ہیں۔
لوگوں کی اتنی دلچسپی کی وجہ کیا ہے؟
وڈیو گیمز کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کی کئی وجوہات ہیں۔
سب سے بڑی وجہ تفریح فراہم کرنا ہے۔ خاص طور پر جب آپ ذہنی الجھن کا شکار ہوں، اپنے مسائل سے تھوڑا فاصلہ اختیار کرنا چاہتے ہوں تو یہ گیمز بہترین تجربہ ثابت ہوتی ہیں۔ دماغ کھیل میں اس قدر مگن ہو جاتا ہے کہ اردگرد کا کوئی دھیان ہی نہیں رہتا اور آپ سارے مسئلے بھول جاتے ہیں۔ لوگوں کو وڈیو گیمز کی صیحح قدر کرونا وباء کے دنوں میں ہوئی، جب مکمل لاک ڈاؤن نے لوگوں کو اُن کے گھروں میں محصور کر کے رکھ دیا تھا۔ تب ان وڈیو گیمز کے کھیلنے والوں کی تعداد میں بے تحاشا اضافہ ہوا۔
دوسری وجہ ساتھی اور دوست بنانا ہے۔ جب چار، پانچ اجنبی لوگ مل کر گیم کھیلنا شروع کرتے ہیں تو ایک اچھی خاصی ٹیم بن جاتی ہے، یہی لوگ اصل میں بھی دوست بن جاتے ہیں اور یوں گیم لوگوں کے درمیان تعلقات بنانے کا ذریعہ بھی بنتی ہیں۔
تیسری وجہ دلی تسکین ہے جب کھیل میں ریوارڈ ملتے ہیں، دشمن کو شکست ہوتی ہے یا نئی صلاحیت حاصل ہوتی ہے تو خوشی اور کامیابی کا احساس ہوتا ہے اور یہی چیز کھلاڑی کو بار بار گیم کھیلنے پر مجبور کرتی ہے۔
ای سپورٹس کے میچز کی انعامی رقم اِتنی زیادہ کیوں ہے؟
سال 2025میں ریاض، سعودی عرب میں منعقد ہونے والے ای سپورٹس ورلڈ کپ کی مجموعی رقم پاکستانی روپوں میں 19 ارب سے بھی زیادہ کی تھی اور اِس سال یہ رقم اِس سے بھی زیادہ ہو گی۔ لیکن سوال یہی ہے کہ اتنی زیادہ رقم آخر کیوں؟تو بات کچھ یوں ہے کہ ای سپورٹس کے شیدائی ہیں بہت۔ 2014 میں ڈوٹا ٹو گیم کے ٹورنامنٹ کے لئے دس ہزار سیٹ والے اسٹیڈیم کی ٹکٹس ایک گھنٹے کے اندر فروخت ہو گئیں، اسی طرح 2013 میں لیگ آف لیجنڈز کے فائنل کے لئے 12000 سیٹ ایک گھنٹے میں بِک گئیں اور اس ایونٹ کو 3 کروڑ بیس لاکھ لوگوں نے دیکھا۔
کہا جاتا ہے کہ 2024 میں ای سپورٹس انڈسٹری جو ٹکٹس اور میڈیا رائٹس کی مد میں ایک کھرب، چھیالیس ارب پاکستانی روپے کما رہی ہے، 2029 میں 1 کھرب، بانوے ارب سے بھی تجاوز کر جائے گی۔ اب ایسی صورت میں انعامی رقم اگر لاکھوں ڈالرز میں ہو تو ریونیو کے مقابلے میں پھر بھی کم ہے۔ یعنی لوگوں کا آن لائن گیمز کے لئے بڑھتا ہوا جنون اتنی ڈھیر ساری انعامی رقم کی اصل وجہ ہے۔
ای سپورٹس کا مستقبل کیا ہے؟
ای سپورٹس کا مستقبل شاندار ہے، کیوں؟ اس لئے کہ دنیا کی آبادی دن بدن بڑھتی جا رہی ہے، کھیل کے میدان ختم ہوتے جا رہے ہیں،لوگ باہر کی دنیا کی بجائے موبائیل اور ٹیکنالوجی پر زیادہ بھروسہ کر رہے ہیں اور آنے والے دنوں میں ٹیکنالوجی پر انسان کا اعتماد اور انحصار مزید بڑھے گا، ایسے میں ای سپورٹس یقیناً زیادہ لوگوں کی ترجیح بن جائے گی اور اب تو ای سپورٹس کو ترقی یافتہ ممالک میں باقاعدہ پڑھایا جانے لگا ہے، مستقبل میں ای سپورٹس مزید وسعت اختیار کرے گااور روزگار کے مواقع فراہم کرے گا۔
مزید پڑھیے: تین کھیل، ایک سوال: سب سے سخت کون؟












