Tag: فور تھرائیوز

  • فور تھرائیوز کون ہیں؟ پب جی کی دنیا میں تہلکہ مچا دینے والی نمبر ون ٹیم؟

    فور تھرائیوز کون ہیں؟ پب جی کی دنیا میں تہلکہ مچا دینے والی نمبر ون ٹیم؟

    جی ہاں! آج بات ہو گی فور تھرائیوز کے اُن چار افراد کی جو دنیا میں کروڑوں پب جی کھیلنے والوں میں سب سے ممتاز ہیں۔ جن کی صلاحیتوں نے بڑے بڑے ماہر حضرات کے چھکے چھڑوا دئیے ہیں، جن کے بھائی چارے نے کھیلنے والوں کے لئے مثال قائم کر دی ہے اور جن کی ہلکی پھلکی نوک جھوک کے نظاروں نے اِس اعصاب شکن کھیل کو بھی زعفرانِ زار بنا دیا ہے سو اگر آپ جاننا چاہتے ہیں تو ذرا چلئے، تھوڑا دور تک چلتے ہیں۔

    یہ ذکر ہے ٹیم فور تھرائیوز کا، جو دیکھتے ہی دیکھتے پب جی کے آسمان پر چھا گئی۔ اِس ٹیم نے کب اور کیسے اور کہاں کہاں کامیابی حاصل کی؟تفصیل کچھ یوں ہے۔

    فور تھرائیوز کی تاریخ

    ایک تھا لڑکا پندرہ سال کا، نام تھا اُس کا فلک۔ سال 2022 میں اُس نے پب جی موبائیل کے گیارہ ایونٹس میں شرکت کی اور اے، بی، سی اور ڈی ٹیئر کے ایونٹس میں حصہ لے کر ہزاروں ڈالرز بھی کمائے اور کئی میچزمیں ‘سب سے قیمتی کھلاڑی’ کا اعزاز بھی پایا۔ اس کے بعد اُس نے مُڑ کر نہیں دیکھا۔ سال 2024 کے آخری مہینے میں اس نے ایک ٹیم بنائی جس کا نام فور تھرائیو رکھا۔ اس ٹیم نے انتہائی کم وقت میں دنیائے ای سپورٹس میں اپنی جگہ بنا لی۔ 2025 میں ہونے والےپب جی موبائیل کے ورلڈ کپ میں دنیا کی 24 بڑی ٹیموں میں ساتویں نمبر پر آ کر اپنے آپ کو منوایا اور 157000 ڈالرز اپنے نام کئے۔

    فور تھرائیوز میں کون کون شامل ہے؟

    فور تھرائیوز کی ٹیم چھ افراد پر مشتمل ہے۔

    • عثمان ‘شاہین’ طارق: ٹیم کے مینیجر اور کوچ ہیں۔
    • فلک شیر ، عمر: 19 سال، ٹیم بنانے والوں میں سے ہیں۔
    • شایان اسد، عمر: 22 سال، اِن گیم لیڈر ہیں، آئی کیو کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ مجھے ذاتی رائے میں آئی کیو کی گیم سب سے زیادہ پسند ہے، جس طرح یہ گیم کے آخر تک کھڑے رہتے ہیں اور کارکردگی دیکھائے بغیر آؤٹ نہیں ہوتے۔ یہ چیز آئی کیو کو بہترین اور میچور کھلاڑی بتاتی ہے۔
    • حسنین رحمان، عمر: 19 سال، ٹی ٹونٹی فور او پی کے نام سے کھیلتے ہیں۔
    • سمیر خان، عمر: 21 سال، نوکی کے نام سے مشہور ہیں۔
    • محمد حذیفہ، عمر: 20 سال، دسمبر 2025 میں ٹیم میں شامل ہوئے۔

    فور تھرائیوز کیسا کھیلتی ہے؟

    فور تھرائیوز کا کھیل جارحانہ ہے۔ گولیاں برساتے دشمن پر گاڑی دوڑا دینا، مرتے مرتے چار دشمنوں کو بھی ساتھ لے جانا اور عین نشانے پر گرنیڈ مار کر پوری ٹیم اُڑا دینا اِن کا خاصہ ہے۔

    ٹیم نمبر ون کیسے بنی؟

    معاملہ کچھ یوں ہے کہ کوئی بھی ٹیم کسی بھی ٹورنامنٹ میں نمبر ون تب آتی ہے جب وہ میچ میں 4، 5 اہم پوائنٹس کا خیال رکھتی ہے جیسے کہ

    • ٹیم کی میچ میں پوزیشن، ٹیم پورے میچ میں کتنی دیر تک زندہ رہتی ہے اور آخر میں کتنی اچھی جگہ پر ختم کرتی ہے۔
    • کتنے کھلاڑیوں کو گیم سے باہر کرتی ہے۔
    • کتنا اچھا پرفارم کرتی ہے۔
    • کُل کتنا ڈیمیج دیتی ہے۔

    ایسے میں آپ کو بتائیں کہ ٹیم فور تھرائیوز بالکل غیر متوقع اور حیران کر دینے والی ٹیم ہے۔ جب یہ کہیں نظر نہیں آ رہی ہوتی تو یہ دوسری ٹیموں کی معلومات جمع کر رہی ہوتی ہے اور جب بالکل امید نہیں ہوتی کہ یہ لڑائی لڑے گی تو اُس وقت اچانک میدان مار لیتی ہے۔ سب سے زیادہ اچھی بات ان کا نقشے کا ماہر ہونا ہے جس طرح یہ دائرے میں ہمیشہ اپنی جگہ بنا لیتے ہیں، وہ دیدنی ہے اورپھر پورے گیم میں جس حکمتِ عملی سے کھلاڑی تقسیم کر کے چلتی ہے اور دشمن کو گھیرتی ہے، وہ اِسے دیکھتے ہی دیکھتے لیڈر بورڈ میں نیچے سے اوپر لے آتی ہے۔

    جکارتہ، انڈونیشیا میں منعقد ہونے والے ایونٹ پی ایم جی او، سیزن ون میں دنیا بھر سے 32 ٹیمیں شرکت کرنے آئیں۔ جس میں 16 ٹیمز گرینڈ فائنل تک پہنچیں اور فور تھرائیوز نے پہلے دن 3 چکن ڈنرز اپنے نام کرتے ہوئے 82 ٹوٹل پوائنٹس کے ساتھ ایسے معیار مقرر کئے کہ دوسری ٹیموں کا اُن تک پہنچنا مشکل ہو گیا۔ اگلے دن ہونے والے میچزمیں جب ٹیم نے 40 پوائنٹس حاصل کئے تو فاتح قرار پائی اور 5 لاکھ ڈالرز کمائے۔

    فور تھرائیوز کون کون سے ٹورنا منٹس جیت چکی ہے؟

    سال 2026 فور تھرائیوز کی محنت رنگ لانے والا سال ہے۔ اس سال انہوں نے دو بڑی چیمپئن شپس اپنے نام کی ہیں۔

    • پہلی اپنے ہوم گراؤنڈ میں پی ایم جی او2026سیزن ون، ساؤتھ ایشیا فائنل میں پہلی پوزیشن
    • دوسری اور بڑی کامیابی پب جی موبائیل گلوبل اوپن سیزن ون 2026 کے چیمپئن
    • ای ڈبلیو سی 2025میں ساتویں پوزیشن
    • پی ایم ایس ایل 2025 میں تیسری پوزیشن

    پاکستان میں آن لائن گیمرز کن مشکلات کا سامنا کرتے ہیں؟

    پاکستان ایک ترقی پذیر ملک ہے، یہاں وسائل کم اور مسائل زیادہ ہیں، انٹرنیٹ کی رفتار اور جدید ٹیکنالوجی کا استعمال محدود ہے، ایسے میں کم قیمت آلات پر اتنی شاندار کارکردگی دکھانا بڑی کامیابی ہے۔ یہاں عموماً ای سپورٹس کھلاڑیوں کو اِن پہاڑوں کو سر کرنا پڑتا ہے۔

    معاشرتی ناپسندیدگی

    کم عمر لڑکے جب پب جی موبائیل یا ایسی دوسری گیمز کھیلنا شروع کرتے ہیں تو ان کے لئے اپنی تعلیم پر توجہ دینا مشکل ہو جاتا ہے کیونکہ گیم میں مہارت حاصل کرنے کے لئے کئی گھنٹوں کی مشق کرنا ہوتی ہے ایسےمیں پڑھائی مشکل ہو جاتی ہے، عموماً جب تک یہ کامیاب کھلاڑی نہیں بن جاتے، گھر والے، رشتے دار، محلے دارسب تنقید کا نشانہ بناتے ہیں کہ ” اس کو تو گیم کھیلنے کے علاوہ کچھ آتا ہی نہیں، نکما کہیں کا”(یہ بات ذاتی مشاہدے کے بعد لکھی گئی ہے، ہر کسی کے ساتھ ایسا ہوا ہو، ضروری نہیں ہے۔) تبدیلی تب آتی ہے جب یہ لڑکے باہر کے ممالک میں جاکر کھیلتے ہیں اور ٹورنا منٹس جیت کر آتے ہیں اور جب تک ایسا نہیں ہوتا، سوسائٹی کا دباؤ مسلسل تنگ کئے رکھتا ہے۔

    حکومتی سرپرستی کا فقدان

    اگر آپ ایک ماہر کھلاڑی ہیں اور باہر جا کر کھیلنا چاہتے ہیں تو ایسا کوئی ادارہ نہیں ہے جو آپ پر روپیہ لگا کر آپ کو باہر بھیجے اور ملک کا نام روشن کروائے، اگر پیسے ہیں تو اپنے بل بوتے پر جائیے اور اگر نہیں ہیں تو صبر کرنے کے سوا کوئی حل نہیں۔

    ویزے کے مسائل

    پاکستان کا پاسپورٹ دنیا کے پاسپورٹس کی فہرست میں 91 پر ہے، کھلاڑیوں کو ویزہ کی ان گنت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کبھی وجہ بتائے بغیر ویزہ رد کر دیا جاتا ہے، کبھی دعوت نامہ دیر سے موصول ہوتا ہے اور کبھی ویزہ حاصل کرنے کے لئے مراحل اتنے طویل اور مہنگے ہوتے ہیں کہ ایونٹس میں شرکت ناممکن ہو جاتی ہے۔