Tag: پب جی موبائل

  • فور تھرائیوز کون ہیں؟ پب جی کی دنیا میں تہلکہ مچا دینے والی نمبر ون ٹیم؟

    فور تھرائیوز کون ہیں؟ پب جی کی دنیا میں تہلکہ مچا دینے والی نمبر ون ٹیم؟

    جی ہاں! آج بات ہو گی فور تھرائیوز کے اُن چار افراد کی جو دنیا میں کروڑوں پب جی کھیلنے والوں میں سب سے ممتاز ہیں۔ جن کی صلاحیتوں نے بڑے بڑے ماہر حضرات کے چھکے چھڑوا دئیے ہیں، جن کے بھائی چارے نے کھیلنے والوں کے لئے مثال قائم کر دی ہے اور جن کی ہلکی پھلکی نوک جھوک کے نظاروں نے اِس اعصاب شکن کھیل کو بھی زعفرانِ زار بنا دیا ہے سو اگر آپ جاننا چاہتے ہیں تو ذرا چلئے، تھوڑا دور تک چلتے ہیں۔

    یہ ذکر ہے ٹیم فور تھرائیوز کا، جو دیکھتے ہی دیکھتے پب جی کے آسمان پر چھا گئی۔ اِس ٹیم نے کب اور کیسے اور کہاں کہاں کامیابی حاصل کی؟تفصیل کچھ یوں ہے۔

    فور تھرائیوز کی تاریخ

    ایک تھا لڑکا پندرہ سال کا، نام تھا اُس کا فلک۔ سال 2022 میں اُس نے پب جی موبائیل کے گیارہ ایونٹس میں شرکت کی اور اے، بی، سی اور ڈی ٹیئر کے ایونٹس میں حصہ لے کر ہزاروں ڈالرز بھی کمائے اور کئی میچزمیں ‘سب سے قیمتی کھلاڑی’ کا اعزاز بھی پایا۔ اس کے بعد اُس نے مُڑ کر نہیں دیکھا۔ سال 2024 کے آخری مہینے میں اس نے ایک ٹیم بنائی جس کا نام فور تھرائیو رکھا۔ اس ٹیم نے انتہائی کم وقت میں دنیائے ای سپورٹس میں اپنی جگہ بنا لی۔ 2025 میں ہونے والےپب جی موبائیل کے ورلڈ کپ میں دنیا کی 24 بڑی ٹیموں میں ساتویں نمبر پر آ کر اپنے آپ کو منوایا اور 157000 ڈالرز اپنے نام کئے۔

    فور تھرائیوز میں کون کون شامل ہے؟

    فور تھرائیوز کی ٹیم چھ افراد پر مشتمل ہے۔

    • عثمان ‘شاہین’ طارق: ٹیم کے مینیجر اور کوچ ہیں۔
    • فلک شیر ، عمر: 19 سال، ٹیم بنانے والوں میں سے ہیں۔
    • شایان اسد، عمر: 22 سال، اِن گیم لیڈر ہیں، آئی کیو کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ مجھے ذاتی رائے میں آئی کیو کی گیم سب سے زیادہ پسند ہے، جس طرح یہ گیم کے آخر تک کھڑے رہتے ہیں اور کارکردگی دیکھائے بغیر آؤٹ نہیں ہوتے۔ یہ چیز آئی کیو کو بہترین اور میچور کھلاڑی بتاتی ہے۔
    • حسنین رحمان، عمر: 19 سال، ٹی ٹونٹی فور او پی کے نام سے کھیلتے ہیں۔
    • سمیر خان، عمر: 21 سال، نوکی کے نام سے مشہور ہیں۔
    • محمد حذیفہ، عمر: 20 سال، دسمبر 2025 میں ٹیم میں شامل ہوئے۔

    فور تھرائیوز کیسا کھیلتی ہے؟

    فور تھرائیوز کا کھیل جارحانہ ہے۔ گولیاں برساتے دشمن پر گاڑی دوڑا دینا، مرتے مرتے چار دشمنوں کو بھی ساتھ لے جانا اور عین نشانے پر گرنیڈ مار کر پوری ٹیم اُڑا دینا اِن کا خاصہ ہے۔

    ٹیم نمبر ون کیسے بنی؟

    معاملہ کچھ یوں ہے کہ کوئی بھی ٹیم کسی بھی ٹورنامنٹ میں نمبر ون تب آتی ہے جب وہ میچ میں 4، 5 اہم پوائنٹس کا خیال رکھتی ہے جیسے کہ

    • ٹیم کی میچ میں پوزیشن، ٹیم پورے میچ میں کتنی دیر تک زندہ رہتی ہے اور آخر میں کتنی اچھی جگہ پر ختم کرتی ہے۔
    • کتنے کھلاڑیوں کو گیم سے باہر کرتی ہے۔
    • کتنا اچھا پرفارم کرتی ہے۔
    • کُل کتنا ڈیمیج دیتی ہے۔

    ایسے میں آپ کو بتائیں کہ ٹیم فور تھرائیوز بالکل غیر متوقع اور حیران کر دینے والی ٹیم ہے۔ جب یہ کہیں نظر نہیں آ رہی ہوتی تو یہ دوسری ٹیموں کی معلومات جمع کر رہی ہوتی ہے اور جب بالکل امید نہیں ہوتی کہ یہ لڑائی لڑے گی تو اُس وقت اچانک میدان مار لیتی ہے۔ سب سے زیادہ اچھی بات ان کا نقشے کا ماہر ہونا ہے جس طرح یہ دائرے میں ہمیشہ اپنی جگہ بنا لیتے ہیں، وہ دیدنی ہے اورپھر پورے گیم میں جس حکمتِ عملی سے کھلاڑی تقسیم کر کے چلتی ہے اور دشمن کو گھیرتی ہے، وہ اِسے دیکھتے ہی دیکھتے لیڈر بورڈ میں نیچے سے اوپر لے آتی ہے۔

    جکارتہ، انڈونیشیا میں منعقد ہونے والے ایونٹ پی ایم جی او، سیزن ون میں دنیا بھر سے 32 ٹیمیں شرکت کرنے آئیں۔ جس میں 16 ٹیمز گرینڈ فائنل تک پہنچیں اور فور تھرائیوز نے پہلے دن 3 چکن ڈنرز اپنے نام کرتے ہوئے 82 ٹوٹل پوائنٹس کے ساتھ ایسے معیار مقرر کئے کہ دوسری ٹیموں کا اُن تک پہنچنا مشکل ہو گیا۔ اگلے دن ہونے والے میچزمیں جب ٹیم نے 40 پوائنٹس حاصل کئے تو فاتح قرار پائی اور 5 لاکھ ڈالرز کمائے۔

    فور تھرائیوز کون کون سے ٹورنا منٹس جیت چکی ہے؟

    سال 2026 فور تھرائیوز کی محنت رنگ لانے والا سال ہے۔ اس سال انہوں نے دو بڑی چیمپئن شپس اپنے نام کی ہیں۔

    • پہلی اپنے ہوم گراؤنڈ میں پی ایم جی او2026سیزن ون، ساؤتھ ایشیا فائنل میں پہلی پوزیشن
    • دوسری اور بڑی کامیابی پب جی موبائیل گلوبل اوپن سیزن ون 2026 کے چیمپئن
    • ای ڈبلیو سی 2025میں ساتویں پوزیشن
    • پی ایم ایس ایل 2025 میں تیسری پوزیشن

    پاکستان میں آن لائن گیمرز کن مشکلات کا سامنا کرتے ہیں؟

    پاکستان ایک ترقی پذیر ملک ہے، یہاں وسائل کم اور مسائل زیادہ ہیں، انٹرنیٹ کی رفتار اور جدید ٹیکنالوجی کا استعمال محدود ہے، ایسے میں کم قیمت آلات پر اتنی شاندار کارکردگی دکھانا بڑی کامیابی ہے۔ یہاں عموماً ای سپورٹس کھلاڑیوں کو اِن پہاڑوں کو سر کرنا پڑتا ہے۔

    معاشرتی ناپسندیدگی

    کم عمر لڑکے جب پب جی موبائیل یا ایسی دوسری گیمز کھیلنا شروع کرتے ہیں تو ان کے لئے اپنی تعلیم پر توجہ دینا مشکل ہو جاتا ہے کیونکہ گیم میں مہارت حاصل کرنے کے لئے کئی گھنٹوں کی مشق کرنا ہوتی ہے ایسےمیں پڑھائی مشکل ہو جاتی ہے، عموماً جب تک یہ کامیاب کھلاڑی نہیں بن جاتے، گھر والے، رشتے دار، محلے دارسب تنقید کا نشانہ بناتے ہیں کہ ” اس کو تو گیم کھیلنے کے علاوہ کچھ آتا ہی نہیں، نکما کہیں کا”(یہ بات ذاتی مشاہدے کے بعد لکھی گئی ہے، ہر کسی کے ساتھ ایسا ہوا ہو، ضروری نہیں ہے۔) تبدیلی تب آتی ہے جب یہ لڑکے باہر کے ممالک میں جاکر کھیلتے ہیں اور ٹورنا منٹس جیت کر آتے ہیں اور جب تک ایسا نہیں ہوتا، سوسائٹی کا دباؤ مسلسل تنگ کئے رکھتا ہے۔

    حکومتی سرپرستی کا فقدان

    اگر آپ ایک ماہر کھلاڑی ہیں اور باہر جا کر کھیلنا چاہتے ہیں تو ایسا کوئی ادارہ نہیں ہے جو آپ پر روپیہ لگا کر آپ کو باہر بھیجے اور ملک کا نام روشن کروائے، اگر پیسے ہیں تو اپنے بل بوتے پر جائیے اور اگر نہیں ہیں تو صبر کرنے کے سوا کوئی حل نہیں۔

    ویزے کے مسائل

    پاکستان کا پاسپورٹ دنیا کے پاسپورٹس کی فہرست میں 91 پر ہے، کھلاڑیوں کو ویزہ کی ان گنت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کبھی وجہ بتائے بغیر ویزہ رد کر دیا جاتا ہے، کبھی دعوت نامہ دیر سے موصول ہوتا ہے اور کبھی ویزہ حاصل کرنے کے لئے مراحل اتنے طویل اور مہنگے ہوتے ہیں کہ ایونٹس میں شرکت ناممکن ہو جاتی ہے۔

  • پب جی کا ماہر کیسے بنیں؟ آسان اور قابل عمل تجاویز

    پب جی کا ماہر کیسے بنیں؟ آسان اور قابل عمل تجاویز

    پب جی کھیلنا بے کار ہے اگر آپ بالکل نا تجربہ کار ہیں اور یہ بات مجھے گیم کھیلنے اور پھر اس میں بُری طرح پِٹنے کے بعد پتہ چلی۔ ہوا کچھ یوں کہ جب میں نے کل کے بچوں کو بپ جی مہارت سے کھیلتے دیکھا تو سوچا کہ کوئی مسئلہ ہی نہیں، یہ تو میرے بائیں ہاتھ کا کام ہے، کیوں نہ بچوں سے بہتر کھیل کر اُنہیں حیران کر دیا جائے اور ساتھ کچھ رعب بھی ڈال دیا جائے کہ دیکھا! ہم سب کچھ کر سکتے ہیں۔ اب جب نقشے کو دیکھا کہ کہاں اُترا جائے تو ذہن نے صلاح دی کہ دشمنوں سے دور پہاڑوں پر محفوظ رہنا بہتر ہو گا، بس جی جب لینڈ کیا ہے تو چل چل کر ہلکان ہو گئے لیکن نہ دشمن ملنا تھا نہ ملا اور بے بسی کی موت مارے گئے ہاہاہا یوں ہی بہت دفعہ مرنے کے بعد دماغ میں خیال آیاکہ کیوں نہ ماہر کھلاڑیوں کو کھیلتے دیکھا جائے، شاید کچھ پلّے پڑ جائے۔

    پانچ ایسی خوبیاں دیکھیں اُن میں کہ سمجھ آگیا کہ ماہر کیسے بنا جاتا ہے۔اگر آپ میری طرح پِٹنے سے بچنا چاہتے ہیں تو اِس آرٹیکل سے استفادہ کر کے بپ جی کے ماہر بن سکتے ہیں۔ آئیے ایک ایک کر کے ان خوبیوں کو جانتے ہیں۔

    نقشہ پڑھنے کے ماہر

    نقشہ دیکھے بغیر کہیں بھی چھلانگ لگا دینا بے وقوفی ہے، ماہر کھلاڑی ہمیشہ ایسی جگہ کا انتخاب کرتے ہیں جو نہ بالکل ویران ہو اور نہ دشمنوں سے کھچا کھچ بھری ہوئی۔ میں نے تو اکثر کو سکول کے قریب چھلانگ لگاتے دیکھا ہے، (پڑھنے کے لئے نہیں، لڑنے کے لئے۔۔)اُس کے بعد کسی بھی قریبی عمارت میں بھاگتے ہوئے پناہ لیتے ہیں۔ گن لوڈ کرتے ہیں اور دشمن کا تعاقب کرتے ہیں۔ اگر کہیں دور جانا ہو تو گاڑی کا استعمال کرتے ہیں اور اسے کبھی بھی سڑک پر نہیں چلاتے بلکہ اونچے نیچے راستوں پر دوڑاتے ہیں تاکہ دشمن نقل و حرکت کا اندازہ نہ لگا سکے۔

    مزید پڑھیے: فور تھرائیوز کون ہیں؟ پب جی کی دنیا میں تہلکہ مچا دینے والی نمبر ون ٹیم؟

    دور سے دشمن کو تاڑ لینے کے ماہر

    جب میں نے گیم کھیلنا شروع کی تو کبھی بھی سمجھ نہیں آتی تھی کہ دور سے جو فائر آتا ہے، کہاں سے آتا ہے؟ دشمن مجھے کیسے دیکھ لیتا ہے؟ پھر یہ سمجھ آئی کہ دائیں طرف گیم کے اوپر کی جانب ایک چھوٹا سا باکس بنا ہوتا ہے جس میں آپ کے ساتھ دشمن کی نقل و حرکت کا بھی پتہ چلتا ہے،جب دشمن فائر کرتا ہے تو اس باکس میں سرخ نشان ظاہر ہوتا ہے یوں اُدھر نظر رکھنے سے بھی دشمن کو تاڑا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ ماہر کھلاڑی ہر نئی جگہ پر پہنچتے ہوئے ساتھ ساتھ سارے علاقے کا جائزہ لیتے رہتے ہیں، خاص طور پر عمارتوں کے کونوں، کھڑکیوں اور ٹوٹے ہوئے بنیروں پر نظر رکھتے ہیں، کُھلے علاقے میں درختوں، جھاڑیوں اور پہاڑیوں کے دوسرے سِروں کا جائزہ لیتے ہیں اور ہاں گاڑیوں کو بھی چیک کرتےرہنا ضروری ہے، اگر کسی عمارت کے باہر گاڑی کھڑی ہو تو دشمن یقینی طور پر اندر موجود ہے۔

    نشانہ بازی کے ماہر

    شروع شروع میں جب میں نے دشمن کو مارنے کے لئے فائر کیا تو خود ہی مرنا پڑا کیونکہ نشانہ کچا تھا ، دشمن مرتا تو کیا خاک اُلٹا میری خبر ہو گئی۔ تب ماہر کھلاڑیوں کو کھیلتے دیکھا تو یہ نوٹس کیا کہ وہ دشمن کے سر کا نشانہ لیتے ہوئے اُس سے تھوڑا آگے گولیاں داغنا شروع کرتے ہیں اور بغیر رُکے فائر کرتے رہتے ہیں جب تک وہ ختم نہ ہو جائے۔ جسم کے کسی اور حصے پر گولی مارنا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ دشمن مرہم لگا کر دوبارہ میدان میں اُتر سکتا ہے اور پھر آپ کی خیر نہیں۔

    خود کو محفوظ رکھنے کے ماہر

    جب بھی میں نے بھاگنےکے لئے میدان کا رُخ کیا، فوراً ہی فائر کا سامنا کرنا پڑا اور گیم ختم۔ ماہر کھلاڑی کیسے چُھپ جاتے ہیں؟ جب انہیں کھیلتے دیکھا تو پتہ چلا کہ وہ پہلے سموک بم پھینکتے ہیں جس سے دشمن کی حدِ نگاہ کم ہو جاتی ہے اور وہ آپ کو دیکھ نہیں سکتا یوں کہیں بھی جا کر چُھپا جا سکتا ہے اس کے علاوہ جب کھڑکی یا دروازے سے فائر کرنا ہے تو فوراً وہاں سے ہٹ جانا ہے یا زمین پر لیٹ جانا ہے اور اپنی پوزیشن بدل لینی ہے، کھڑے رہ کر اپنی موت کا انتظار نہیں کرنا۔ اور ایک تجویز یہ بھی ہے کہ دشمن زیادہ تر جوتوں کی چاپ سے آپ کی آمد کا اندازہ لگاتا ہے اگر آپ اس آواز کو کنٹرول کر لیں تو دشمن کو حیران کر سکتے ہیں۔ یہ چھوٹی چھوٹی باتیں گیم میں بڑی اچھی بہتری لے آتی ہیں۔

    گرنیڈ پھینکنے کے ماہر

    جب میں نے پہلی دفعہ گرنیڈ پھینکا تو کان ٹھاہ کی آواز سننے کو ترستے ہی رہ گئے اور دشمن نے مجھے ٹائیں ٹائیں فش کر دیا۔ گرنیڈ اپنے نشانے پر تو نہیں لگا البتہ دشمن کو میری لوکیشن کا علم ہو گیا جبکہ مجھے لگتا تھا کہ گرنیڈ پھینکنا قطعاً مشکل نہیں۔ لیکن پھر پتہ چلا کہ یہ بھی سیکھنا پڑے گا۔ بس جی پھر چلے ماہر حضرات کے پاس تو اُنہوں نے سمجھایا کہ 47 میٹر تک کا فاصلہ اپنے اور دشمن کے درمیان ہونا بہتر ہے پھر 4 سیکنڈز تک گرنیڈ کو پکانا ہے اور بہت اچھا ہو گا اگر ‘شو ٹریجیک ٹری لائن’کا بٹن آن کر لیا جائے تو گرنیڈ عین نشانے پر لگے گا اور یقین مانئے واقعی بڑا فرق پڑا۔

    حرفِ آخر

    یہ وہ معمولی حربے اور تجاویز ہیں جو یقیناً آپ پہلے سے جانتے ہوں گے لیکن کبھی اتنی اہمیت نہیں دی ہو گی، اگر آج ہی سے ان پر عمل شروع کریں تو گیم کھیلنا آسان اور مزیدار ہو جائے گا۔

  • لاکھوں ڈالرز کی مالیت کے تین ای سپورٹس ورلڈ کپ

    لاکھوں ڈالرز کی مالیت کے تین ای سپورٹس ورلڈ کپ

    کیا آپ نے ای سپورٹس کو کبھی سنجیدگی سے لیا ہے؟ اگر نہیں تو سنیں، پچھلے دنوں ریاض، سعودی عریبہ میں ای سپورٹس ورلڈ کپ کا انعقاد کیا گیا۔ 24 گیمز کے 25 ٹورنا منٹس ہوئے اور انعامی رقم تھی، سات کروڑ ڈالرز کی۔ یقین جانیں آنکھیں مَلنے کے بعد بھی رقم اتنی ہی رہے گی۔ اب آگے اِس سے بھی مزے کی بات سُنیں، وہ یہ کہ سب سے زیادہ انعامی رقم موبائیل پر کھیلی جانے والی گیمز کے ورلڈ کپس کی تھی۔ بپ جی موبائیل، موبائیل بینگ بینگ اور آنرآف کنگز۔ 30 لاکھ ڈالرز صرف ایک گیم کے ورلڈ کپ کی۔

      آپ  یقیناً حیران ہو رہےہوں گے کہ ایسا کیا خاص ہے اِن میں کہ دنیا نے کروڑوں ڈالرز کی خطیر رقم لُٹا دی تو آئیں ذرا تفصیل سے جانتے ہیں۔

    ہوا کچھ یوں کہ۔۔۔۔۔

    ای سپورٹس ورلڈ کپ

    پس منظر

    سن 2016 سے 2018 کے درمیان مرکزی ای اسپورٹس کی دنیا پر کمپیوٹر اور کنسول گیمز جیسے کال آف ڈیوٹی، لیگ آف لیجنڈز، ڈوٹا ٹو کا راج تھا۔موبائل گیمز کو اکثر صرف وقت گزارنے کا ذریعہ سمجھا جاتا تھا، نہ کہ سنجیدہ مقابلے کی بنیاد۔ یہاں تک کہ گیم اِنگ کمیونٹیز میں بھی موبائل کھلاڑیوں کو کبھی کبھار "نان رئیل گیمرز” کہہ کر مذاق کا نشانہ بنایا جاتا تھا۔

    نظر انداز کئے جانے کی وجوہات

    • سوچ کا فرق: زیادہ تر ٹورنامنٹ منتظمین اور اسپانسرز صرف کمپیوٹر یا کنسول گیمز پر توجہ دیتے تھے، یہ سمجھتے ہوئے کہ موبائل گیمز میں مہارت یا گہرائی نہیں ہوتی۔
    • ٹیکنالوجی کی محدودیت: پرانے موبائل آلات اعلیٰ کارکردگی والی گیمز کو سپورٹ نہیں کرتے تھے، اس لیے موبائل ای اسپورٹس کو کم درجے کا سمجھا جاتا تھا۔
    • علاقائی تعصب: مغربی مارکیٹس نے ابتدائی طور پر موبائل ای اسپورٹس کو قبول نہیں کیا، جبکہ ایشیا اور لاطینی امریکہ میں خاموشی سے بڑے پیمانے پر کھلاڑیوں کی تعداد بڑھتی گئی۔
    • کمیونٹی کا شک: ریڈٹ جیسے پلیٹ فارمز پر اکثر یہ سوال اٹھایا جاتا تھا کہ کیا موبائل گیمز کبھی "اصل ای اسپورٹس” بن سکتے ہیں۔

    پھر ایک  نیا موڑ آیا اوربے شمار ڈاؤن لوڈز، اعلیٰ مہارت والا کھیل، اور لاکھوں ناظرین نے پب جی موبائیل، موبائیل بینگ بینگ اور آنر آف کنگز  کا بیانیہ بدل کر رکھ دیا۔

    ان کے ٹورنامنٹس نے ثابت کیا کہ موبائل ای اسپورٹس بھی اتنے ہی شاندار، حکمت عملی سے بھرپور اور ثقافتی طور پر طاقتور ہو سکتے ہیں جتنے کہ کوئی بھی کمپیوٹر گیم۔ یہ گیمز صرف بڑھے نہیں… بلکہ انہوں نے توقعات کو دگنا تگنا کر دیا۔ ان کے ٹورنامنٹس نے ثابت کر دیا کہ موبائل ای اسپورٹس صرف حقیقت نہیں… بلکہ آنے والے وقت کا انقلاب ہیں۔

    انعامی رقم کے اِن کروڑوں ڈالر نے تین موبائل گیمز پب جی موبائیل، موبائیل بینگ بینگ اور آنرآف کنگز کو سادہ وقت گزاری سے نکال کر عالمی ای اسپورٹس کے شہنشاہ بنا دیا ہے۔ جو کبھی چھوٹی اسکرینوں پر تفریحی میچز ہوا کرتے تھے، وہ اب بڑے اسٹیڈیمز، ریکارڈ توڑ ٹورنامنٹس، اور بین الاقوامی شہرت پانے والے کھلاڑیوں میں بدل چکے ہیں۔

    آئیے آپ کو بتاتے ہیں کہ یہ تین موبائل گیمز کے شاندار مقابلے پب جی موبائیل کا عالمی چیمپئن شپ، موبائیل لیجنڈز کا جنوب مشرقی ایشیا کپ ، اور آنرآف کنگز کا عالمی چیمپئن کپ- کیسے معمولی آغاز سے نکل کر کروڑوں روپے کے انعامات، عوامی مقبولیت، اور حقیقی دنیا کی شہرت حاصل کرنے والے ایونٹس بن گئے۔

    PUBG موبائل ورلڈ چیمپئن شپ

    سن 2019 کے آغاز میں، پب جی موبائل نے خاموشی سے اپنے پہلے عالمی ٹورنامنٹس کا آغاز کیا۔ اُس وقت چند پرجوش پرو ٹیمیں صرف عزت اور ایک معمولی چھ ہندسوں کی انعامی رقم کے لیے مقابلہ کر رہی تھیں۔ لیکن پردے کے پیچھے، پب جی کی خالق کمپنی ‘کرافٹن’ نے ایک خزانہ دریافت کیا: ایک ارب سے زائد ڈاؤن لوڈز، روزانہ لاکھوں کھلاڑی، اور لائیو اسٹریمز جنہیں ہزاروں لوگ دیکھ رہے تھے۔

    کرافٹن نے 2021کی عالمی چیمپئن شپ تک نے بڑی کمپنیوں—گاڑی ساز ادارے، انرجی ڈرنکس، اور ٹیکنالوجی برانڈز—کے ساتھ شراکت کی اور انعامی رقم میں ریکارڈ 60 لاکھ ڈالر شامل کیے۔ اچانک پب جی موبائل کے پیشہ ور کھلاڑیوں کی آمدنی کئی کمپیوٹر ای اسپورٹس پروفیشنلز سے بھی زیادہ ہو گئی۔ ناظرین کی تعداد کروڑوں تک پہنچ گئی، اور جنوبی کوریا اور بھارت کے بڑے اسپورٹس چینلز نے ٹی وی پر اس کی جھلکیاں دکھانا شروع کر دیں۔

    جب گرد بیٹھی  تو پب جی موبائل نے خود کو زمین کا سب سے بڑا صرف موبائل پر مبنی ای اسپورٹس بنا لیا۔

    (MSC)موبائل لیجنڈز: ساؤتھ ایسٹ ایشیا کپ

    سال 2017 میں موبائیل لیجنڈز بینگ بینگ صرف ایک عام موبائل ‘موبا’ تجربہ تھا۔ لیکن جنوب مشرقی ایشیا—ملائیشیا، انڈونیشیا، اور فلپائن—میں یہ گیم دھماکے سے مقبول ہو گئی۔ شائقین نے انٹرنیٹ کیفے اور اسٹیڈیمز بھر دیے تاکہ اپنے مقامی ہیروز کی حوصلہ افزائی کر سکیں۔ اس جنون کو دیکھتے ہوئے، ڈیولپر ‘مون ٹون’ نے 2018 میں ایم ایس سی کا آغاز کیا، جس کی انعامی رقم 1 لاکھ امریکی ڈالر تھی۔

    ہر سال ایم ایس سی کی انعامی رقم میں اضافہ ہوتا گیا—پہلے 5 لاکھ، پھر 7.5 لاکھ، اور 2023 تک یہ رقم 10 لاکھ امریکی ڈالر سے تجاوز کر گئی۔ کیوں؟ کیونکہ جنوب مشرقی ایشیا کی موبائل گیم اِنگ کمیونٹی نے بھرپور حمایت کی، مشہور شخصیات نے سوشل میڈیا پر اسے لائیو اسٹریم کیا، ٹیلی کام کمپنیاں مقامی کوالیفائرز کی اسپانسر بنیں، اور حکومتی کھیلوں کے اداروں نے اسے قومی ای-گیم اِنگ فیسٹیولز میں شامل کر لیا۔

    آج ایم ایس سی کے فائنل میچز 10,000 نشستوں والے اسٹیڈیمز بھر دیتے ہیں، پورے خطے میں ٹوئٹر پر ٹرینڈ کرتے ہیں  اور اسکول کے ہونہار کھلاڑیوں کو راتوں رات سوشل میڈیا اسٹارز میں بدل دیتے ہیں۔

    آنر آف کنگز: ورلڈ چیمپئن کپ

    چین میں، ‘ٹین سینٹ’ کی گیم "آنر آف کنگز” نے خاموشی سے روزانہ کے فعال صارفین کے ایسے ریکارڈ قائم کیے جو فیس بک جیسے پلیٹ فارمز سے بھی مقابلہ کرتے ہیں۔ 2019 میں اس کا پہلا بین الاقوامی مقابلہ—ورلڈ چیمپئن کپ —منعقد ہوا، جس کی انعامی رقم 1 کروڑ یوآن (تقریباً 15 لاکھ امریکی ڈالر) تھی۔ لیکن یہ تو صرف شروعات تھیں۔ 2022 میں، نئے نام "انٹرنیشنل چیمپئن شپ” کے تحت انعامی رقم کو بڑھا کر 1 کروڑ امریکی ڈالر کر دیا گیا، جو اسے تاریخ کا سب سے مہنگا موبائل ای اسپورٹس ٹورنامنٹ بنا گیا۔ ‘بیلی بیلی’ اور’دو ین’ جیسے پلیٹ فارمز پر ناظرین کی تعداد آسمان کو چھونے لگی، اور "آنر آف کنگز” نے ثابت کر دیا کہ یہ صرف ایک گیم نہیں رہی بلکہ ایک قومی طاقت بن چکی ہے۔

    اتنی بڑی انعامی رقم کیوں؟

    آنر آف کنگز صرف ایک گیم نہیں بلکہ ایک ثقافتی علامت بن چکی ہے۔ یونیورسٹی ای اسپورٹس لیگوں نے اس کے لوگو کو اپنایا، اور چینی کھیلوں کے اداروں نے اس کے پروفیشنل کھلاڑیوں کو بین الاقوامی سفر کے لیے ایتھلیٹ اسٹیٹس دے دیا۔ کے ڈبلیو سی کا فائنل ‘بیلی بیلی’ ، ‘دو ین’ اور قومی ٹی وی پر نشر ہوا۔ اور ناظرین کی تعداد 10 کروڑ سے تجاوز کر گئی۔ کے ایس سی میں بازی لے جانا اب چین کے کچھ حصوں میں اولمپک گولڈ جیتنے جیسا قومی اعزاز سمجھا جاتا ہے۔

    اتنی بڑی انعامی رقم کے پیچھے وجوہات

    • وسیع کھلاڑیوں کی تعداد: ہر گیم کے کروڑوں انسٹالز اور روزانہ لاکھوں صارفین ہیں۔
    • ڈیولپرز کی سرمایہ کاری: ٹین سینٹ اور کرافٹن ان گیمز کو قومی کھیلوں کی طرح سنجیدگی سے لیتے ہیں، اسپانسرز اور نشریاتی حقوق میں بھاری سرمایہ لگاتے ہیں۔
    • علاقائی جوش و جذبہ: چین اور جنوب مشرقی ایشیا میں موبائل گیم اِنگ عام تفریح ہے—مقامی مشہور شخصیات، ٹیلی کام کمپنیاں، یہاں تک کہ اسکول بھی اس میں شامل ہو چکے ہیں۔
    • میڈیا اور اسپانسرز: گاڑی ساز ادارے، مشروبات کے برانڈز، اور قومی ٹی وی نیٹ ورکس؛ سب موبائل ای اسپورٹس کے اس دھماکہ خیز رجحان کا حصہ بننا چاہتے ہیں۔

    یہ تمام عوامل مل کر ان چھوٹے مقابلوں کو کروڑوں ڈالرز کے شاندار ایونٹس میں بدل دیتے ہیں۔ ہر نئے سیزن کے ساتھ، مزید ناظرین متوجہ ہوتے ہیں، مزید برانڈز سرمایہ لگاتے ہیں، اور جیتنے والوں کا دائرہ مزید دلکش بن جاتا ہے—یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ موبائل ای اسپورٹس واقعی عالمی سطح پر پہنچ چکے ہیں۔

    آگے ہے کیا؟
    یہ صرف انعامی رقم کی بات نہیں رہی۔ اب یہ مقابلے بڑے اسٹیڈیمز، فرنچائز لیگوں، اور روایتی کھیلوں کے اداروں سے جڑنے لگے ہیں۔ جلد ہی ہم وہ وقت دیکھیں گے جب موبائل ای اسپورٹس کے کھلاڑی کرکٹ کے لیجنڈز اور فٹبال اسٹارز کے ساتھ ایک ہی صف میں کھڑے ہوں گے۔ یہ سب اس بات کا اشارہ ہے کہ موبائل گیمنگ کا اصل انقلاب ابھی شروع ہوا ہے۔

    :اُردو میں ای سپورٹس کے بارے میں مزید پڑھیئے